Horror Stories In Urdu : The Scandal Girl
Horror Stories Moral Stories Real Life Stories Short Stories Urdu Stories

Horror Stories In Urdu : The Scandal Girl Part 3

Today We Start The 20 Episode Of Horror Stories In Urdu : The Scandal Girl. Today We Show You Only 6 Episode Horror Stories In Urdu : The Scandal Girl. Read This Story With Friends. don’t Read If You Alone. And You Can Wach Part 1 Horror Stories In Urdu : The Scandal Girl And Part 2 Horror Stories The Scandal Girl Part 2

Horror Stories In Urdu : The Scandal Girl
Horror Stories In Urdu : The Scandal Girl

سکینڈل گرل


قسط..6

سدرہ کا جسم بہت زیادہ کانپ رہا تھا مجھے اس کو سہارا دے کے گاڑی تک لانا پڑا۔۔

مجھے علم تھا کہ سدرہ کی یہ کیفیت سردی کی وجہ سے نہیں تھی۔۔
اُسے خوف تھا کہ کہیں وہ پھر سے گزرے وقت میں دوبارہ نہ چلی جاٸے اُسے یہ سب خواب لگ رہا تھا۔۔

کہ وہ اتنے دن سے کسی گھر میں محفوظ تھی اُس کی عزت کو تارتار کرنا تو دور کی بات کسی نے میلی نظر سے دیکھا بھی نہیں تھا۔۔۔

سی ویو سے خادم حسین کے گھر تک کا فاصلہ مکمل خاموشی سے کٹا میں نے بھی بات کرنا مناسب نہ سمجھا
کیونکہ میں نہیں چاہتا تھا کہ سدرہ شرمندگی فیل کرے۔

لیکن اب بھی میرے دماغ میں بہت سارے سوال جوں کے توں تھے میں جاننا چاہتا تھا کہ سدرہ اِس گندھے دھندے میں آٸی کیسے پڑھی لکھی ہونے کے باوجود ایسی کیا مجبوری تھی کہ اسے یہ سب کرنا پڑا۔۔۔

جبکہ حرکات اور بات کرنے کا انداز اُس کا بلکل شریف گھرانوں کی لڑکیوں جیسا تھا۔

لیکن فلحال اُس کی طیبعت ایسی تھی کہ اُس سے کوٸی اور سوال کرنا انتہاٸی غلط تھا اِس لٸے میں نے یہی سوچا کہ پھر کبھی اس پہ بات کروں گا۔۔۔

جب ہم کچی آبادی سدرہ کی رہاٸش پہ پہنچے تو رات کے ساڑھے نو بج رہے تھے۔۔۔
میں نے گاڑی گھر کے سامنے روکی اور اترنے کے بجاٸے منہ سدرہ کی طرف کر کے اسے مخاطب کیا۔۔۔
جو اب بھی گردن جھکاٸے ہوٸے بیٹھی تھی میری آواز پہ اس نے گردن اٹھا کے مجھے دیکھا اُس کی آنکھیں رونے کی وجہ سے سوجی سوجی لگ رہی تھی۔
ااب بھی آنسوٶں سے بھری ہوٸی تھی۔۔۔

جی شاہ سر
سدرہ کی آواز میں درد تھا
میں نے بے اختیار اس کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لٸے جو گاڑی کے اندر بھی برف کی مانند سرد ہو رہے تھے۔۔

Horror Stories In Urdu : The Scandal Girl

سدرہ مجھے نہیں پتہ کہ تم اس کام میں کیسے آٸی لیکن میرا دل گواہی دیتا ہے کہ تم بہت اچھی لڑکی ہوں

سدرہ جو وقت بیت گیا اس پہ سواٸے افسوس کے کچھ نہیں کیا جا سکتا لیکن جب تک میری سانسیں ہیں تب تک میں تمہیں تحفظ دوں گا عزت دوں۔

میرے دلاسہ دینے اور یقین دلانے پہ اس کی آنکھوں سے گرتے آنسوٶں میرے ہاتھوں پہ آ ٹھہرے ۔۔۔

سدرہ نے بے اختیار میرے ہاتھوں کو مضبوطی سے تھام لیا۔
شاہ سر میں اللہ سے دعا کروں گی کہ میرے حق میں میری دعا قبول کرے نہ کرے لیکن آپ کے حق میں میری دعا قبول کرے اللہ آپ کو لمبی زندگی دے آمین،،

سدرہ نے انتہاٸی جزباتی آواز میں کہا۔۔

اچھا چلو اب اندر چلتے ہیں یہ کہتے ہی میں گاڑی سے اتر گیا اور دوسری طرف سے آ کے سدرہ والا دروازہ کھولا۔۔

واپس گھر آ کے میرا دماغ بہت الجھن کا شکار تھا سر درد سے پھٹ رہا تھا سونے کی بہت کوشش کی لیکن نیند نہیں آٸی۔۔
صبح جلدی آفس چلا گیا اور پورا دن بھی کھانے کا وقت ہی نہ ملا جس کی وجہ سے اب بھوک سے برا حال تھا ٹاٸم دیکھا تو ساڑھے تین بج رہے تھے پہلے سوچا آفس بواٸے کو بھیجتا ہوں کھانا لانے کے لٸے پھر کچھ سوچ کے باس کا نمبر ملایا
السلام علیکم سر
وعلیکم السلام شاہ جی
سر جی میں زرہ آج جلدی جا رہا ہوں کچھ کام ہے
او کے شاہ جی جاٸیں آپ الله حافظ
الله حافظ سر۔۔۔
اب میں نے دوسری کال گلشن اقبال تھانے میں کی جو کہ تیسری رنگ پہ پک کر لی گٸی۔

السلام علیکم گلشن اقبال پولیشن اسٹیشن۔۔
وعلیکم السلام نوید شاہ کا نمبر دیں
دوسری طرف سے پوچھا گیا آپ کون صاحب
سید مصطفی
جی سر نوٹ کریں نمبر
نمبر لے کر کال بند کی اور نوید شاہ کا نمبر ملایا کے او کے کر دیا لیکن کال کسی نے پک نہ کی۔۔۔
میں اگین نمبر اوپن کر کے اوکے کرنے لگا تو سکرین پہ نوید شاہ کے نمبر سے کال آتی شو ہوٸی میں نے کال پک کرلی۔۔

السلام علیکم شاہ جی

وعلیکم اسلام جی کون صاحب۔
آگے سے کرخت پولیس والوں کے لہجے میں پوچھا گیا۔۔
یار تم لوگوں نے قسم کھاٸی ہوٸی ہے کہ پیار سے نہیں بولنا

ہاہاہاہاہاہاہا او میرا جگر میرا یار شاہ جی تسی او دوسری طرف سے اب نوید شاہ نے چہکتے ہوٸے کہا۔۔

تیرے ایس آٸی بننے کا مجھے آج تک کوٸی فاٸدہ نہیں ہوا

کزن جی حکم کرو فاٸدہ ابھی کر لیتے ہیں
نوید شاہ نے نے معنی خیز لہجے میں کہا۔
میں نے ایسے فاٸدہ نہیں کروانا
مل کے کروانا ہے فاٸدہ
میں چاہتا تھا کہ مل کے نوید سے پوری تفصیل سے بات کروں

او کے کزن کب ملنا ہے شام کو چاچو کے گھر ملیں یا تم گھر آ جانا نوید نے پلان کا پوچھا۔

نہیں مجھے ابھی ملنا ہے تم اِس وقت کدھر ہوں
شاہ جی میں اس وقت کالا پل آیا ہوں ایک مجرم لینے تھانے سے۔۔۔
نوید شاہ نے جواب دیا
کتنی دیر میں فری ہونا ہے تم نے
میں نکل رہا ہوں یہاں سے نوید شاہ نے فورً جواب دیا۔۔
او کے میں تھانے آ جاتا ہوں میں نے جواب دیا۔
ٹھیک ہے کزن آجاٶ
او کے الله حافظ
او کے الله حافظ،

جب میں تھانے پہنچا تو نوید میرا ہی ویٹ کر رہا تھا
مجھے دیکھتے ہی پرجوش انداز میں بولا

وہ آٸے ہمارے تھانے خدا کی قدرت۔۔۔
وہ ہم سے بچ جاٸیں یہ ان کی قسمت

ہاہاہاہاہاہاہا کباڑہ کر دیا شعر کا تم نے یہ کہتے ہوٸے میں نے نوید کو گلے لگا لیا۔۔۔
کیسے ہو میری جان بہت دن بعد یاد کیا نوید نے گلہ کرتے ہوٸے کہا
بس یار کچھ بزی تھا ہم بات کرتے ہوٸے نوید کے کمرے میں آگٸے
اچھا پہلے یہ بتاٶ کہ کیا کھاٶ گے نوید نے بیٹھتے ہی سوال کیا۔۔
کھانا نہیں کھایا میں نے اس لٸے کچھ بھی منگوا لو بہت بھوک لگی ہے۔۔۔
چکن برگر چلے گا نوید نے آنکھ مارتے ہوٸے پوچھا
چلے گا نہیں ڈوڑے کا ساتھ کوک ہو تو😋😋

ڈن ابھی منگواتا ہوں یہ کہ کر اس نے کسی کو کال کی اور دو برگر اور کوک کا کہا۔۔۔۔
نوید میری ممامی کے بھاٸی کا بیٹا تھا لیکن رشتہ داری سے زیادہ ہم لوگ دوستی کو سامنے رکھتے تھے۔۔

جی کزن اب بتاٶ کہ سب خریت ہے نا
ہاں سب خریت ہے میٹروول تھانے میں اک کام ہے
حکم کریں شاہ جی ابھی چلتے ہیں
نہیں یار ابھی نہیں جانا تمیں میں پوری تفصیل بتا دیتا ہوں جب کام ہو جاٸے تو مجھے کال کر لینا۔۔۔
اچھا بتاٸیں کیا کام ہے
سدرہ مجھے میٹرول کے علاقے سے ملی تھی اس لٸے مجھےیقین تھا کہ وحید اور بلقیس کا گھر ادھر ہی ہو گا۔۔

میٹروول میں ایک جسم فروش عورت ہے بلقیس اور اس کا شوہر وحید ان دونوں کو زرہ سیدھا کرنا ہے کیس نہیں بنانا لیکن لتر پھیرنے اچھے سے۔۔۔

شاہ جی ان کا ایڈریس دے دیں ہو جاٸے گا۔
میرے پاس اُن کا ایڈریس نہیں نہ میں نے اُن کو دیکھا ہے

نا ہی جانتا ہوں بس تنا پتہ ہے کہ اُن کا گھر اُسی ایریے میں ہے اور پھر یہ جسم فروشی کے اڈوں کا تو تم لوگوں کو اچھے سے پتہ ہوتا ہے نا

میں نے نوید شاہ کو گھورا
ہاہاہاہاہاہا شاہ جی ہمیں ان کا پتہ ہوتا ہے جو بڑے پیمانے پہ کام کرتے ہیں یہ جو گھروں میں چھپ چھپا کے کرتے ہیں اِن کا پتہ نہیں چلتا نوید نے جواب دیا۔
میرے خیال میں وہ چھوٹی موٹی نہیں کافی بڑی سامی ہے۔
اچھا رکیں میں پتہ کرتا ہوں یہ کہ کر نوید موباٸل میں نمبر سیرچ کرنے لگا۔
اب اس نے موباٸل کان کے ساتھ لگا کے کہا السلام علیکم بلوچ صیب۔
دوسری طرف کی آواز مجھے سناٸی نہیں دے رہی تھی اِس لٸے پتہ نہیں کیا بولا جا رہا تھا
ساٸیں ایک کام ہے آپ کے ساتھ

نا ساٸیں حکم نہیں گزارش ہے۔

نوید اب اسے بات بتانے لگا۔۔
بلوچ صیب تسی کوشش کرو تے بندہ نہ ملے میں نہیں مندا
ساٸیں میرا زاتی کام ہے اس وحید اور بلقیس سے جب بندے آ جاٸیں تو زرہ مجھے کال کر دینا آپ
او کے ساٸیں الله حافظ،،

شاہ جی ایسے پتہ لگانا بہت مشکل ہے میں نے میٹروول تھانے کے انچارج سے بات کی ہے وہ کہ رہا ے بہت جلد بندے پکڑ لیں گے۔
نوید تم خود بھی اس میں کوشش کرو مجھے ہر صورت وہ انسان چاہیٸے نا چاہتے ہوٸے بھی میری آواز میں سختی اتر آٸی۔۔۔
مصطفی خریت تو ہے کوٸی مسلہ ہے تو مجھے بتاٶ تم کچھ پریشان لگ رہے ہو نوید نے فکر مندی سے پوچھا۔

نہیں پریشانی کی کوٸی بات نہیں مجھے اس بندے سے زاتی قسم کا مسلہ ہے جب تم پکڑ لو گے تو بتاٶں گا۔۔

اچھا ٹھیک جو تمہیں ٹھیک لگے نوید جواب دیتا ہوا ہاتھ دھونے چلا گیا۔

میں تھانے سے نکلا تو چھے بج رہے تھے اور آنکھوں میں شدید جلد جو شاید کل پوری رات جاگنے کا اثر تھا
پہلے سوچا کھانا کھاتا ہوں

پھر رہنے دو کو اوکے کر کے گاڑی گھر کی طرف موڑ دی

جیسے ہی بیڈ پہ لیٹا تو تھکاوٹ اور جاگنے کی وجہ سے نیند نے دبوچ لیا بڑی مشکل سے بیگم کو میسج کیا کہ صبح بات کروں گا کیونکہ اُس نے پریشان ہو جانا تھا کہ واٹس ایپ اور فیس بک پہ آپ لاٸن ہے اور فون پہ بھی کال پک نہیں کر رہا ہے۔

صبح فجر کے وقت آنکھ کھلی وضو کیا نماز ادا کی اور چاٸے بنانے لگا تبھی روم سے موباٸل کی بیل سناٸی دی
دیکھا تو باس کی کال آ رہی تھی اتنی صبح اس گنجے کو کیا موت پڑ گٸی ہے
باس کی تعریف کرنے کے بعد کال پک کی السلام علیکم سر
وعلیکم السلام شاہ جی کیسے ہیں
اللہ کا احسان سر خریت ہے آج اتنی صبح کال۔۔
شاہ جی آپ کو چار دن کے لٸے حیدرآباد جانا ہے۔
آفس کے کام کے سلسلے میں اس لٸے آپ جلدی نکل جانا او کے سر
او کے شاہ جی الله حافظ
خبیث انسان حیدر آباد جانا ہے کسی اور کو بندہ بھیج دیتا ہے ایک بار پھر باس کی کچھ تعریف کی

پورے نو بجے میں گھر سے حیدرآباد کے لٸے نکلا سوچا یہی تھا کہ دن کو کسی وقت سدرہ سے بات کروں گا لیکن اتنی مصروفیت رہی کہ بیگم سے بھی بات کرنے کا وقت نہیں مل رہا تھا اور بیگم اپنی عادت کے مطابق میری جان کو پیٹنے پہ لگی ہوٸی تھی
اور میسج پہ میسج کیٸے جا رہی تھی

مجھے پتہ تھا تم بدل جاٶ گے اتنا ہی ہوتا ہے مسٹر شاہ
دل بھر گیا تمہارا
میں بھی پاگل ہوں تمہاری جان نہیں چھوڑتی
تمہارے پٕچھے تو لاٸن لگی اب میری کیا ویلیو ہو گی۔

بس یہ محبت پیار شادی سے پہلے کے چونچلے ہیں اب تو تمہارا دل بھی نہیں کرتا مجھے سے بات کرنے کا
لگتا ہے کوٸی اور پسند آ گٸی ہے
لیکن شاہ صاحب ایک بات بھول جاٶ کہ جیتے جی میں تمہاری جان چھوڑ دوں گی
کبھی نہیں مرتے مرتے بھی تمہیں مار کے مروں گی
اور ان میسجز کے ساتھ مختلف قسم کے ایموجی بھیجے جا رہی تھی۔۔۔

😡😡😡🌑🌑🌑🔫🔫🔫🔫👽👽👽😈😈😈

Horror Stories In Urdu : The Scandal Girl
Horror Stories In Urdu : The Scandal Girl

اب مجھے ہنسی بھی آ رہی تھی بیگم کے میسج پڑھ کے اور دل کو بہت سکون بھی مل رہا تھا کہ چلو کوٸی تو ہے جو کہتا ہے میں جیتے جی تمہاری جان نہیں چھوڑوں گا۔۔۔

چار دن کے لٸے گیا تھا لیکن کام زیادہ نکل آیا اس لٸے چار دن کے بجاٸے مجھے آٹھ دن حیدر آباد رہنا پڑہ اور ان آٹھ دنوں میں باوجود کوشش کے میں سدرہ سے بات نہ کر سکا
لیکن اس کے باوجود وہ ہر وقت خیالوں میں بسی رہی۔۔۔۔

جیسے بات سے بات نکلتی سیم اِسی کے مصداق کام سے کام نکلتا ہے مجھے منگل کی شام حیدرآباد سے واپس آنا تھا لیکن پھر آفس کی طرف سے احکامات ملے کے آپ دو دن اور رکیں گے۔۔۔۔۔۔۔

جمرات کی شام چھے بجے میں نے آخری میٹنگ مکمل کی یہ وزٹ بہت شاندار رہا تھا شاید اِس بار رب کی کوٸی خصوصی مہربانی تھی کہ تین پروجیکٹ کی ڈیل فاٸنل ہو گٸی۔۔۔
اور میں سوچ رہا تھا کہ یقینً یہ سدرہ کے ساتھ کی ہوٸی نیکی کا صلہ ہے۔۔۔

واپس ہوٹل پہچ کے میں نے باس کو کال کی ۔
السلام علیکم سر
والسلام سلام شاہ صاحب
سر اب کیا حکم ہے ۔۔
بڑی شدت سے دل چاہا کہ باس کو اس کے نام سے پکاروں جو مجھے باس کے لٸے بہت موزوں لگتا تھا گنجا پاپی😌😌
لیکن پھر احترام کے پیش نظر سر کہ دیا۔۔🙊

مسٹر شاہ آپ کی پروگریس اس بار بہت شاندار ہے اور ہیڈ آفس آپ سے بہت خوش ہے اس لٸے آپ کو سنڈے تک لیو دی گٸی ہے انجوٸے کریں اینڈ congratulations

شکریہ سر
او کے خدا حافظ
الله حافظ سر۔۔
لیو کا سن کے دل تو بڑا کیا کے کہ کوٸی نصیبو لال کا اچھا سا مجرا سنو🙈
اور لڈی ڈالوں پھر اپنی سوچ پہ شرمندگی محسوس ہوٸی کہ یہ کیا غلط بات سوچ لی ہے
میڈم نے تو کبھی کوٸی مجرے والا گانا گایا ہی نہیں 🙊🙊🙈

میڈم نصیو لال سے اپنی اس گستاخی پہ روحانی سوری بول کے انٹرکام پہ دس منٹ بعد چاٸے کا بول کے شاور لینے چلا گیا۔۔۔۔

چاٸے پیتے ہوٸے جو پہلا خیال دل میں آیا وہ سدرہ کا تھا

پتہ نہیں کیسی ہو گی وہ
کہیں وہ مجھ سے بدگماں نہ ہو گٸی ہو کہیں اُس کے دل میں یہ خیال نہ آ گیا ہو کہ میں نے اُس کے ماضی کو سن کے دوبارہ مڑ کے اُس کا حال بھی نہیں پوچھا۔۔

یہ خیال مجھے الجھا رہا تھا اور دل میں ایک عجیب قسم کی بے چینی وارد ہو رہی تھی۔۔۔

پہلے یہی پلان تھا کہ صبح نکلوں گا کراچی کے لٸے لیکن اب یہاں رکنا مشکل ہو رہا تھا اس لٸے اُسی وقت اٹھا اور پیکنگ کی اور اللہ کا نام لے کراچی کے لٸے نکل پڑا۔۔۔۔۔۔۔

کراچی پہنچا تو رات بارہ سے اوپر کا وقت ہو گیا تھا لیکن کراچی میں رات کے بارہ بھی ایسے ہی ہوتے ہیں جیسے آٹھ بجے کا وقت ہو ابھی بھی خوب چہل پہل تھی۔

گھر پہچ کے صحن کی لاٸٹ آن کی جس نے منہ چڑھا کے آن ہونے سے انکار کر دیا۔۔۔
دو بار کوشش کی کہ شاید آن ہو جاٸے لیکن اسے ترس نہیں آیا تو اپنا فیورٹ جملہ لاٸٹ اور بورڑ کے گوش گزار کر کیا مٹی پاٶ اور روم کی طرف بڑھ گیا۔

روم کا لاک اوپن کیا اور روم میں آ گیا۔۔۔
لیکن یہ کیا جیسے ہی روم کی لاٸٹ آن کی وہ بھی آن نہ ہوٸی اب دل نے تانا دیا چلو شاباش ہن اِس تے وی پاٶ۔۔۔۔

گھور کے دل کو چپیڑ ماری اور باہر نکل کے دیکھا تو سب کی لاٸٹ آن تھی۔۔۔۔

تبھی دماغ میں ریڈ بتی بلنگ کرنے لگی بھاٸی صاحب بل بھریا سی۔۔۔۔ او نو😦😦

جس دن میں حیدر آباد گیا تھا بل کی لاسٹ ڈیٹ تھی۔۔۔

اور سوچا تھا کے جاتے ہوٸے پے کر دوں گا لیکن پھر بھول گیا تو اس کا مطلب ہے کے الیکٹرک والے اپنا کام کر گٸے ہیں

یقین تو تھا کہ ایسا ہی ہوا ہے لیکن پھر بھی تصدیق کے لٸے گیٹ سے باہر نکل کے میٹر کا دیدار کیا تو اس کی دونوں نالیاں کٹی ہوٸی تھی۔۔۔
میٹر کا حال دیکھ کے بجلی والوں کی شان میں کچھ کلمات ادا کیٸے اور روم میں آ کے لیٹ گیا۔۔۔۔۔۔

صبح آنکھ کھلی تو نو بج رہے ناشتہ وغیرہ سے فری ہو کے بل پے کرنے چلا گیا اس کے بعد واپڈا والوں کو کمپلین کی اور بجلی برحال کرواٸی۔۔۔
ڈیڑھ بجے جمعہ کی نماز ادا کی اور سو گیا

شام چار بجے میری آنکھ کھلی اور فریش ہو کے بیگم کو کال کی کچھ دیر اس کا دماغ کھایا اور فل تپا کے کال بند کر دی اور سدرہ سے ملنے کے لٸے نکل آیا۔۔۔

جب میں نے گاڑی خادم حسین کے گھر کے سامنے روکی تو شام کے چھے بج رہے تھے۔
دروازہ حمزہ نے کھولا اندر داخل ہوا تو خادم حسین سامنے ہی چارپاٸی پہ لیٹا ہوا تھا جس نے مجھے دیکھتے ہی اٹھنے کی کوشش کی۔۔۔
لیٹے رہو لیٹے رہو کیا ہوا طبیعت تو سہی ہے تمہاری جی صاحب جی بس آج کچھ فلو سا ہو گیا ہے آپ سناٶں کیسے گزرے دن ۔۔
الحَمْدُ ِلله میرے منع کرنے کے باوجود بھی خادم اٹھ کے بیٹھ گیا تبھی بھابھی دوپٹے سے ہاتھ پونجھی ہوٸی کچن سے باہر نکلی
سلام بھاٸی کیسے ہیں
وعلیکم سلام آپ کیسی ہیں بھابھی
جی شکر ہے مالک کا
بھابھی اب تو اوپر کوٸی نہیں نا
جی بھاٸی چلے جاٸیں ابھی ابھی بچے گٸے ہیں۔۔۔
او کے ٹھیک ہے پھر بات ہوتی ہے یہ کہتے ہوٸے میں سیڑھیوں کیطرف بڑھ گیا۔۔
تبھی بھابھی کی آواز آٸی بھاٸی چاٸے بھجواٶں۔۔
نہیں بھابھی ہم لوگ کھانا باہر کھاٸیں گے اس لٸے چاٸے نہیں۔۔۔
اور ان کا جواب سنے بنا سیڑھیاں چڑھنے لگا ۔۔۔۔
کوٸی ہے گھر میں
میں نے سیڑھیوں کے پاس کھڑے ہو کے آواز تھی۔
دو سیکنڈ سے بھی پہلے سدرہ ہاتھ میں کتاب لٸے بنا چپل پہنے باہر آ گٸی

ارے شاہ سر آپ السلام علیکم
وعلیکم سلام کیسی ہو تم
ٹھیک ہو سر اندر آٸیں۔

ہم بات کرتے ہوٸے روم میں آ گٸے۔۔
سناٶ کیسے گزرے دن تمہارے
سر اچھے بہت اچھے گزرے بچے آ جاتے ہیں اب دل لگ جاتا ہے
گڈ کتنے سٹوڈنٹ اکھٹے کر لیٸے اب تک
سر چار بچیاں ایف اے کی ہیں
دو بچیاں ایف ایس سی کی ہیں
اور چھے بچیاں ناٸن ٹین کی ہیں
سدرہ نے تفصیل بتاٸی
ارے واہ بہت زبردست اب مجھے یقین ہو گیا ہے تمہاری منزل بہت قریب ہے۔۔
نہیں سر منزل تو بہت دور ہے
ابھی تو صرف راستہ ملا ہے
سدرہ نے اداس ہوتے ہوٸے جواب دیا
ان شاء اللہ منزل بھی مل جاٸے گی۔
ان شاء اللہ سر
اچھا یہ دیکھو تمہارے لٸے کیا لایا ہوں
میں نے پاس پڑا پیکٹ سدرہ کی طرف بڑھایا
سر کیا ہے اس میں
خود دیکھ لو میں نے پیکٹ سدرہ کی طرف بڑھاتے ہوٸے کہا
سدرہ مجھے سے پیکٹ لے کھولنے لگی۔۔
میری نظریں اس کے چہرے پہ جم گٸی جو پہلے دن اس کے چہرے پہ داغ تھے اب بلکل ختم ہو گٸے تھے بہت معصومیت تھی اس کے چہرے پہ میرا دل بھر آیا کہ پتہ نہیں کون سی منہوس گھڑی اُسے اِس دلدل میں پھینک گٸی تھی۔

ارے واہ شاہ سر بینگل آپ میرے لٸے لاٸیں
سدرہ نے اب براہ راست میری طرف دیکھا میں پہلے ہی اسےدیکھ رہا تھا کچھ پل یوں ہی بیت گٸے
اور پھر میں نے دیکھا کہ سدرہ کے چہرے پہ ایک رنگ سا آ کے گزر کیا اور اس نے نظریں جھکا لی
جی آپ کے لٸے لایا ہوں لیکن لگتا آپ کو اچھی نہیں لگی میں نے شرارت سے کہا۔
سر ابو کے بعد مجھے آپ کا گفٹ پسند آیا
سدرہ اداس ہو گٸی۔۔۔
مجھے اِس وقت اُس کا اداس ہونا بہت برا لگا اس لٸے اُس کا موڈ بدلنے کے لٸے بات بدلی۔
تم نے یاد بھی نہیں کیا ہو گا مجھے۔

شاہ سر آپ کے اس تفحے نے آپ کا احساس آپ کی خوشبو ہر وقت میرے وجود سے جوڑے رکھی۔
سدرہ نے جیکٹ کی طرف اشارہ کیا جو اُس نے اب بھی پہن رکھی جو اُس رات میں نے ساحل پہ اسے پہننے کے لٸے دی تھی۔۔
اچھا تو یہ تمہارے پاس ہے میں ڈھونڈ ڈھونڈ کے تھک گیا پتہ نہیں کدھر گم ہو گٸی چلو اب واپس کرو۔۔۔

میں نے جان بوجھ کے انجان بننے کی کوشش کی۔
شاہ سر یہ میں اب آپ کو نہیں دوں گی۔
سدرہ نے ہاتھ سے نا نا کا اشارہ کرتے ہوٸے کہا
اچھا ٹھیک ہے نا دو لیکن ایک شرط ہے میں نے سدرہ کی طرف دیکھتے ہوٸے کہا
کیا سر بتاٸیں
ہم ابھی ڈنر باہر کریں گے
منظور ہے سر لیکن میری بھی دو شرطیں ہیں سر
سدرہ نے مسکراتے ہوٸے ہاتھ کی انگیوں سے ✌ کا نشان بنایا۔۔
جی بتاٸیں میم کیا ہیں آپ کی شرطیں
پہلی شرط یہ ہے کہ آپ مجھے سب سے پہلے عبایا لے کے دیں گے
او کے ڈن اور دوسری شرط ؟

میں جو آپ کو دو گی وہ آپ بنا کوٸی بات کیٸے لے لیں گے
اچھا ڈون
نہیں سر دوسری شرط کے لٸے پکا پرومس کریں کہ آپ منع نہیں کریں گے۔
او کے وعدہ ہے نہیں کروں گا منع
سر ایسے نہیں
پھر کیسے میں نے جان بوجھ کے سدرہ کو چھیڑہ
سدرہ نے اٹھتے ہوٸے کہا ہاتھ ملا کے وعدہ کریں سر
اور ساتھ ہی اپنا ہاتھ آگے بڑھا دیا
جسے میں نے کچھ سکینڈ سوچنے کے بعد تھام لیا۔۔۔

Read More Horror Stories In Urdu Part 4

Part 1 Horror Stories In Urdu : The Scandal Girl

Part 2 Horror Stories The Scandal Girl Part 2

2 Replies to “Horror Stories In Urdu : The Scandal Girl Part 3

Leave a Reply