Horror Stories In Urdu : The Scandal Girl
Family Stories Horror Stories Moral Stories Real Life Stories Urdu Stories

Horror Stories In Urdu : The Scandal Girl

Today We Start The 20 Episode Of Horror Stories In Urdu : The Scandal Girl. Today We Show You Only 1 To 3 Episode Horror Stories In Urdu : The Scandal Girl. Read This Story With Friends. don’t Read If You Alone.

Horror Stories In Urdu : The Scandal Girl
Horror Stories In Urdu : The Scandal Girl

Horror Stories In Urdu : The Scandal Girl


سکینڈل گرل

Horror Stories In Urdu : The Scandal Girl Episode 1


قسط 1

رات کو دو بجے اچانک سر میں شدید درد کے احساس سے میری آنکھ کھل گٸی


درد اتنا شدید تھا کہ سانس لینا دشوار ہو رہا تھا۔

مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق اٹھ بیٹھا۔۔


کچھ دیر سانس بحال کرتا رہا پھر جیکٹ پہنی اور بیڈ روم سے باہر نکل آیا۔۔


جیسے ہی صحن میں قدم رکھا ہوا کے ایک ٹھنڈے جھونکے نے احساس دلایا کہ سردی ابھی باقی ہے۔۔۔

اکیلے ہونا جہاں ایک نعمت ہے وہی بہت زیادہ تکلیف دہ بات بھی ہے انسان جب بیمار ہوتا ہے تو کوٸی پوچھنے

والا نہیں ہوتا۔۔۔


پوری رات بندہ بخار سے تپتا رہتا ہے کوٸی پرسان حال نہیں ہوتا یہی سوچتے ہوٸے میں صحن میں کھڑی اپنی

کھٹارا مہران تک پہچ گیا۔۔۔


جس کے لٸے میں تو گرل فرینڈ والی فیلنگ رکھتا تھا لیکن وہ ہمیشہ مجھ سے لڑاکا بیوی جیسا برتاٶ کرتی

تھی۔۔

horror stories in Hindi

موڈ ہوا تو سٹارت ہو گٸی نا موڈ ہوا تو جواب دے دیا۔۔۔


اب بھی میں نے ڈور کھولنے سے پہلے آیت الکرسی پڑھ کے پھونک مارا اور دروازہ کھول کے آہستہ سے

سیٹ پہ آ بیٹھا


انداز ایسا تھا کہ گویا گاڑی کو نہیں بیوی کو جگانے


لگا ہوں😑


کلمہ پڑھ کے سٹارٹ کرنے کے لٸے چابی گھماٸی پہلے تو زرہ سا غصہ کرتے ہوٸے غراٸی پھر سٹارٹ ہو

گٸی۔۔

بس پھر کیا تھا میں نے بھی فل ایکسی لیٹر دے دیا کہ اچھے سے گرم ہو جاٸے۔۔۔۔


دو منٹ ایسے ہی گاڑی کو تپانے کے بعد میں اترا اور گیٹ کھولا۔۔


جب میں گھر سے نکلا تو سر درد عروج پہ تھا


کوٸی اور وقت ہوتا تو میں رات کا یہ پہر بہت انجوٸے کرتا غلام علی کی کوٸی غرل سنتا۔۔۔

Horror Stories In Urdu : The Scandal Girl


لیکن اِس وقت سر درد کر رہا تھا اس لٸے نصیبو لال سننا مجھے زیادہ بہتر لگا۔۔۔۔


نصیبو کے گانے بھلے جیسے بھی ہیں لیکن ان کا ایک فاٸدہ ہے انسان نصیبو کے گانے سنتے ہوٸے کچھ

اورسوچ ہی نہیں سکتا۔۔۔


کیوں کے نصیبو کے گانوں میں شاعروں نے ایسی ایسی ساٸنس لڑاٸی ہوتی ہے کہ بندہ سن کے خود کو بھی

نکا نکا شاعر سمجھنے لگتا ہے۔۔۔


ہسپتال کی ایمرجنسی میں ڈاکٹر نے میرا بی پی چیک کر کے مجھے ایک نرس کے حوالے کر دیا۔۔۔


جس نے بڑی قاتلہ مسکراہٹ کے ساتھ بتایا کہ آپ کو ٹیکا لگے گا۔۔۔


میں نے بھی اُسی کی طرح ڈبل قاتلانہ مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا


مجھے پتہ ہے ٹیکا ہی لگنا ہے ہور تسی کہڑا گولی مارنی لاٶ ٹیکا تسی😁

Horror Stories In Urdu : The Scandal Girl


لیکن اس وقت چراغوں میں روشنی نہ رہی جب نرس نے کہا لیٹ جاٸیں😐

سر درد کا انکشن لگوا کے میں نے پارکنگ کا رخ کیا جہاں مہران میرا ویٹ کر رہی تھی۔۔۔۔


ہسپتال کے سروس روڈ سے جیسے ہی میں نے مین روڈ پہ گاڑی کو ٹرن کیا۔۔

ایک لڑکی نے ہاتھ کے اشارے سے لفٹ مانگی۔۔۔


پہلے تو سوچا رہنے دیتا ہوں۔۔


کیوں کہ اس وقت کسی لڑکی کو لفٹ دینا خطرے سے خالی نہیں تھا۔۔


دوسرا اب ایک اور دھندہ بڑے عروج پہ تھا کال گرل پروواٸڈر عورتیں رات کو کسی گاڑی والے سے لفٹ لے

لیتی اور باتوں باتوں میں اسے بتاتی کہ ہماری جاننے والی بہت مجبور ہو کے جسم فروشی کا کام کر رہی

ہے۔۔۔

Horror Stories In Urdu : The Scandal Girl


اب جن کو ضرورت ہوتی وہ آگے سے دلچسپی لے لیتے اُن کی بات میں۔۔


اور وہ سمجھ جاتی کہ یہ ہمارا کسٹمر ہے جسے دلچسپی نہیں ہوتی وہ اگنور کر دیتا تو وہ چپ چاپ اپنے اگلے

سٹاپ پہ اتر جاتی۔۔۔۔


خیر نا چاہتے ہوٸے بھی میں نے گاڑی اُس لڑکی کے پاس روک لی کیونکہ کے میں شک کی بنیاد پر کسی کی

ہیلپ نہیں چھوڑ سکتا تھا۔

گاڑی رکتے ہی لڑکی نے بڑے مزہب انداز میں السلام علیکم کہا۔۔


اور میرے وعلیکم سلام کا انتظار کیٸے بنا اس نے بہت میٹھی آواز میں کہا سر آپ مجھے موتی محل اتار دیں

گے۔۔۔

جی اتار تو دوں گا لیکن۔۔۔۔


لیکن کو چھوڑیں آپ اتار دینا بس اور اگر آپ چاہیں گے تو آپ کو اتارنے کا رینٹ بھی مل جاٸے گا ۔۔۔


اُس نے بے تکلفی سے فرنٹ ڈور کھول کے سیٹ پہ بیٹھتے ہوٸے معنی خیز لہجے میں کہا۔۔۔۔

مجھے سمجھ آ گٸی تھی کہ میں نے لفٹ غلط بندی کو دے دی ہے لیکن اب کیا ہو سکتا تھا اب تو وہ گاڑی میں

بیٹھ چکی تھی۔۔۔

میں نے اس کی بات کا کوٸی جواب نہ دیا اور گاڑی گیٸر میں ڈال دی۔

شاید میری چپ میں چھپی ناگواری اُس نے بھی محسوس کر لی تھی

Horror Stories In Urdu : The Scandal Girl


کچھ دیر بعد اس کی آواز نے سکوت کو توڑا سوری سر


مجھے آپ سے ایسے بات نہیں کرنی چاہیٸے تھی۔


میں نے جسٹ اٹس اوکے کا جواب دیا۔۔


تب تک موتی محل آ چکا تھا میں نے سٹاپ پہ گاڑی روکی۔۔۔

میرا خیال تھا کہ وہ خود ہی سٹاپ دیکھ کے اتر جاٸے گی لیکن دو مٹ گزرنے کے بعد بھی وہ ہنوز بیٹھی تھی

مجھے بہت شدید غصہ آ رہا تھا دل تو چاہا کہ اُسے ایک تھپڑ ماروں اور کہوں دفع ہو جاٶ۔۔


لیکن اپنی ماں کی نصیحت یاد آ گٸی کہ عورت کس بھی کردار کی ہو اُس کی عزت کرنا کیونکہ اُس کا کردار

رب کا اور اس کا معاملہ ہے۔۔


تمہیں بس سے ثابت کرنا ہے تم بھی عورت کے پیدا کردہ ہو


میں نے سٹاپ پہ لگی لاٸٹ کی روشنی میں اس کے چہرے کو پہلی بار دیکھا۔۔۔


باٸیس تیٸیس سال کی خوبصورت نقوق والی لڑکی تھی لیکن لگتا تھا کہ وقت نے بہت ظلم کیا ہے اُس پہ


اُسے گم سم پا کے میں نے آرام سے کہا میم آپ کا سٹاپ آ گیا ہے


ایک دم سے وہ چونک گٸی جیسے کسی خواب سے باہر آٸی ہو۔


جی بہت شکریہ آپ کا سر


اس نے کپکپاتی آواز میں کہتے ہوٸے دروازہ کھولنے کی کوشش کی۔۔۔


اُس کا پورا جسم کانپ رہا تھا۔


سردی تو تھی لیکن گاڑی میں اتنی سردی نہیں تھی کہ انسان سردی سے کانپنے لگتا۔۔۔


ایسے پیشے کی عورتیں بہت تیز طرار اور بہت بولڈ ہوتی ہیں لیکن اُس لڑکی نے جو دو تین جواب دیٸے تھے

Horror Stories In Urdu : The Scandal Girl

بہت مہزب انداز میں دیٸے تھے۔

آپ ٹھیک تو ہیں میم آپ کو اگر ٹھنڈ لگ رہی ہے تو


ایسا کریں آپ میری جیکٹ لے لیں لیں۔۔۔


میں نے از راہ ہمدرری کہا


اس نے ایک نظر میری طرف دیکھا جیسے سوچ رہی ہو کہ کچھ کہے یا نہ کہے۔


میں نے دوبارہ نرمی سےکہا اگر آپ کو ٹھنڈ لگ رہی ہے تو جیکٹ لے لیں


اب کی بار اُس کی آنکھوں میں نمی تھی اور اس کے اگلے الفاظ نے میرے ہوش اڑا دیٸے۔۔۔


اُس نے بھیگی اور کانپتی آواز میں کہا۔۔


کیا آپ مجھے کچھ کھانے کے لٸے خرید کے دے سکتے ہیں میں نے تین دن سے پانی کے سوا نہ کچھ کھایا

ہے نہ پیا۔۔۔

ایک پل کو تو میری سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ہی ختم ہو گٸی۔۔


تین سے کھانا نہ کھانے مطلب تھا 72 گھنٹے بھوکا رہنا۔۔۔

اف خدایا اب مجھے سمجھ آٸی کہ اس کا جسم اور آواز کیوں کپکپا رہی تھی۔

جب انسان حد سے زیادہ بھوک برداشت کرتا ہے یاچوبیس گھنٹے تک کچھ نہیں کھاتا تو یہ نوبت آتی ہے۔۔


اس کا جسم بھوک کی شدت سے کپکپانے لگتا ہے۔۔

میں نے موباٸل میں ٹاٸم دیکھا ساڑھے چار بج رہے تھے

اس کا کردار جو بھی تھا اس وقت اُس کی مدد کرنا اِس چیز سے زیادہ اہم تھا۔۔


ہو سکتا تھا کہ لوگ اُسے میرے ساتھ دیکھ کہ یہ بھی سمجھتے کہ میں اُس کے ساتھ رات گزار کے اب ڈراپ

کرنے جا رہا ہوں یا ناشتہ کروا رہا ہوں۔۔۔۔


لیکن مجھے اِس وقت اِن باتوں کی پرواہ پرواہ نہیں تھی اِس وقت عزت سے زیادہ انسانیت نبھانا ضروری تھا۔۔۔

میں نے اُس کی بات کا جواب دیٸے بنا گاڑی سٹارٹ کی اور سہراب گوٹھ کی طرف موڑ دی کیونکہ اِس وقت

وہاں ہی ناشتہ مل سکتا تھا۔۔۔۔

جاری ہے۔

Horror Stories In Urdu : The Scandal Girl Episode 2

Horror Stories In Urdu : The Scandal Girl
Horror Stories In Urdu : The Scandal Girl

سکینڈل گرل۔۔قسط۔۔۔2

راٸٹر کی اجازت کے بنا کاپی کرنے اور شیٸر کرنے کی اجازت نہیں۔۔۔

سہراب گوٹھ میں پٹھانوں کے ایک ہوٹل پہ پراٹھے اور آملیٹ بہت مزے کا ملتا تھا..


اور اُن کی چاٸے بھی بہت اچھی تھی اس لٸے میں نے اُسی پہ گاڑی روکی۔۔۔


وہ اترنے لگی تو میں نے منع کر دیا۔

آپ گاڑی میں ہی بیٹھیں میں ناشتہ لے کے آتا ہوں


اور پلیز برا نا مناٸیے گا یہ دوپٹہ جو آپ نے گلے میں ڈالا ہوا ہے اس کو سر پہ اوڑھ لیں۔۔۔

میرے ایسا کہنے پہ اس نے مجھے ممنون نظروں سے دیکھا جنہیں میں نظر انداز کرتا ہوا ناشتے لینے چلا

گیا۔۔

کیوں کہ میں یہ سب خالص اللہ کی رضا کے لٸے کر رہا تھا میں نہیں چاہتا تھا کہ میرے دل میں غرور آٸے یا

اس کی نظروں میں اپنے لٸے شکرگزاری دیکھوں۔۔۔

میں نے دو پراٹھے دو آملیٹ اور تین کپ چاٸے آرڈر کی میں خود بھی رات دو بجے سے جاگ رہا تھا۔۔


جس کی وجہ سے مجھے بھی بھوک لگ رہی تھی میں پیسے دے کے گاڑی میں آ گیا۔۔


کیونکہ گاڑی تھوڑی ہوٹل سے دور کھڑی تھی ابھی ہلکا یلکا اندھیرا تھا۔۔۔


اور کراچی کے حالات اتنے اچھے نہیں ہیں کہ اتنی صبح کسی عورت کو اکیلے گاڑی میں چھوڑا جاٸے خاص

طور پہ سہراب گوٹھ جیسی جگہ پہ تو بلکل نہیں۔۔۔

گاڑی میں بیٹھتے ہی میں نے کہا آپ پچھلی سیٹ پہ چلی جاٸیں اور آرام سے ناشتہ کر لیں۔۔۔


اُس نے جی اچھا کہا اور گاڑی کا دروازہ کھولنے کی کوشش کی جو کہ ہمیشہ کی طرح نہیں کھلا۔۔۔


کیونکہ دروازے میں لگا کیچر اندر سے ٹوٹا ہوا تھا جس کی وجہ سے وہ عام بندے کے لٸے کھولنا مشکل تھا۔۔۔

مجبوراً مجھے اتر کے اس کے لٸے دروانہ کھولنا پڑا


اِتنی دیر میں ناشتہ آ گیا۔۔۔

میں نے ناشتہ کرتے ہوں اسے بلکل نظر انداز کر دیا ۔


وجہ یہ تھی کہ وہ آرام سے ناشتہ کر لے بھوکی تھی کسی شرم میں نہ رہے۔۔۔۔


میں خود بھی ناشتہ کرنے لگا۔۔۔


کچھ ہی دیر بعد مجھے اس کی آواز آٸی


سر پانی چاہیٸے

Horror Stories In Urdu : The Scandal Girl


او سوری مجھے خیال نہیں رہا میں نے یہ کہتے ہوٸے چاٸے کا کپ ڈیش بورڈ پہ رکھا۔۔۔


اور پانی لینے جانے لگا تو اس نے روکا سر آپ ناشتہ کر لیں پھر لے آٸیٸے گا


میں اُس کی بات کو نظر انداز کر کے باہر چلا گیا مجھے یاد ہی نہیں تھا جب انسان کچھ گھنٹوں کے بعد کھانا

کھاتا ہے تو اسے پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔۔۔


اُس نے تو تین دن سے کچھ نہیں کھایا تھا میں نے منرل واٹر کی بوتل لی اور جلدی سے واپس آ گیا۔۔۔۔

یہ لیں پانی میم پانی کی بوتل اُس کی طرف بڑھاتے ہوٸے میری نظر اتفافیہ طور پہ اس کی گردن پہ پڑ گٸی


جہاں ریڈ ریڈ نشان نظر آ رہے تھے ایسا لگ رہا تھا کسی نے تشد کیا ہو۔۔۔۔


اُس نے پانی کی بوتل پکڑتے ہوٸے جزاك اللهُ‎ کہا جو کہ مجھے کافی عجیب لگا۔۔


ناشتےسے فارغ ہو کے میں نے اُس سے پوچھا کہ میم اب آپ کو کہاں اتاروں۔۔


سر جہاں آپ کا دل کرے آپ اتار دیں میرا کوٸی گھر نہیں


اُس کی آواز میں پھتاوا تھا۔۔


مجھے حیرانی ہوٸی کہ جسم فروش ہی سہی مگر یہ کیسا جواب ہے گھر تو ہو گا بھلے رینٹ کا ہی سہی یا کہیں

تو رہتی ہو گی۔۔۔

شاید اس نے میری آنکھوں میں یہ سوال پڑھ لیا تھا


سر میں رہتی تھی ایک گھر میں کسی کے پاس لیکن اب مجھے وہاں نہیں جانا میرا ضمیر گورا نہیں کر رہا۔۔

اُس کی ضمیر گوارا نہ کرنے والی بات پہ میرا دل چاہا زور سے قہقہہ لگاٶں اور اسے کہوں کہ محترمہ آپ

کس ضمیر کی بات کر رہی ہیں۔۔۔

جسم فروشی کرتے وقت ضمیر کدھر جاتا ہے لیکن مجھے یہ باتیں کرنے کا حق نہیں تھا۔۔۔

Horror Stories In Hindi


اب مجھے بھی الجھن ہو رہی تھی کہ اس سے کیسے پیچھا چھڑواٶں۔۔۔

سر آپ پریشان نہ ہوں میں یہی اتر جاتی ہوں اور سر میں خاندانی جسم فروش نہیں ہوں بس ایک غلطی کی وجہ

سے پھنس گٸی ہوں۔۔۔

میرا ضمیر ہر روز مجھ پہ لعنت بھیجتا ہے لیکن مجبور ہوں کیا کروں کوٸی راہ نظر نہیں آتی۔۔۔


میں نے مڑ کے دیکھا تو اس کی آنکھیں بھیگی ہوٸی تھیں

مجھے ایسا لگا جیسے اُس نے میری سوچ پڑھ لی ہے اب مجھے شرمندگی ہونے لگی کہ کسی کے دل کا حال

اللہ ہی جانتا ہے مجھے کیا حق ہے ایسا فتوی دوں۔۔


کیا پتہ وہ واقعی مجبور ہو

اسی اثنإ میں اس نے گاڑی کا دروازہ دروازہ کھولا اور اتر گٸی۔۔۔

اب میں نے اُسے غور سے دیکھا تھا وہ واقعی کسی اچھے خاندان سے تھی پتہ نہیں کس وجہ سے یہ گندہ کام

کرنے پہ مجبور تھی۔۔


وہ گھوم کے میری ساٸیڈ پہ آٸی اور میری آنکھوں میں دیکھتے ہوٸے بولی

سر آپ نے آج بہت بڑا احسان کیا ہے مجھ پہ بھوکے کو کھانا کھلانا اللہ کو بہت پسند ہے میرے پاس جسم کے

علاوہ کچھ بھی نہیں ہے دینے کے لٸے۔۔۔

مجھے پتہ ہے وہ آپ لیں گے نہیں میں گناہگار ہوں لیکن آپ کے اس عمل کا اجر اللہ آپ کو ضرور دے گا

الله حافظ سر

Horror Stories In Urdu : The Scandal Girl


ایک پیشہ ور جسم فروش عورت سے اس قسم کی گفتگو کی مجھے توقع نہیں تھی۔۔۔


پیشہ ور عورتیں تو مدد بھی اپنا حق سمجھ کے وصول کرتی ہیں۔۔۔


جب میں خیالوں سے باہر آیا تو تو وہ کافی دور جاتی دکھاٸی دی۔۔

میرے دل میں اچانک روشنی پھیلی کہ یار اس کی مدد کرنی چایٸے آگے اِس کی مرضی۔۔۔۔۔


میں نے گاڑی سٹارٹ کی اور بیک کر کے جس طرف وہ جا رہی تھی ادھر موڑ دی ایک منٹ سے بھی پہلے

میں اس کے برابر پہنچ گیا۔۔۔


گاڑی روک کے میں نے ہاتھ کے اشارے سے اسے بیٹھنے کے لٸے کہا۔۔


اس نے ایک نظر میرے چہرے کو غور سے دیکھا دوسرے ہی لمحے اس کے چہرے پہ بلا کا سکون تھا۔۔۔


اس نے فرنٹ دوڑ کھولا اور میرے برابر آ کے بیٹھ گٸی۔۔۔


گاڑی گیٸر میں ڈالتے ہوٸے نجانے مجھے اپنے اندر کیوں سکون محسوس ہو رہا تھا۔۔۔۔

گاڑی چلتے ہی اس نے آنکھیں موند لی اور سر سیٹ سے ٹکا لیا میں نے ایک نظر غیر ارادی طور پہ اس کے

چہرے کو دیکھا جہاں اب سکون ہی سکون تھا۔

میں اب سوچ میں پڑ گیا کہ اس کی مدد کا ارادہ تو کر لیا ہے لیکن اس کی مدد کروں کیسے…


اگر میری واٸف میرے پاس ہوتی یا بچے ہوتے تو اس کو اپنے گھر میں رکھ لیتا لیکن میں اکیلا رہتا تھا۔۔۔


اس لٸے ایسا رسک لینا بہت خطرناک تھا۔۔


پہلے سوچا ماموں سے بات کرتا ہوں


لیکن پھر خود ہی اپنی بات کی نفی کر دی۔۔۔


کیونکہ کہ ماموں نے کہنا تھا پیسے دے دو کچھ اور چلتا کرو۔

Horror Stories Full Episode


لیکن مجھے پتہ تھا اس مسٸلے کا حل پیسا نہیں تھا

میں اسے پیسے دے دیتا جتنے بھی لیکن وہ ان پیسوں سے خود کو اس گندگی سے نکال نہیں سکتی تھی


میں نے ایک مال کی پارکنگ میں گاڑی پارک کی


اور اتر کے باہر آ گیا


وہ شاید سو گٸی تھی میں نے بھی یہی مناسب سمجھا کے کچھ دیر سو لے۔

میں نے اپنے ہیڈ کو کال کی کہ سر آج میں آفس نہیں آ سکوں گا۔۔۔


کچھ زاتی کام آ گیا ہے اچانک۔۔


دوسری کال اپنے آفس میں کولیگ کو کی کہ آج پی اے کو کہ دو میں کوٸی میٹنگ اٹینڈ نہیں کر سکوں گا کسی

کلاٸنٹ کو ٹاٸم نہ دے۔۔۔۔


کال سے فری ہوا تو آ جا کہ پھر سوٸی وہیں اٹک گٸی کہ اسے رکھوں کہاں۔۔۔


پہلے سوچا دوستوں سے بات کرتا ہوں

میرے دو دوست شادی شدہ تھے ایک کی بیوی بہت شکی مزاج تھی دوسرا ویسے کافی رنگین میزاج تھا سو اُن

والا بھی پلان خود ہی کینسل کر دیا۔۔۔

پھر سوچا کہ کوٸی مکان رینٹ پہ لے دیتا ہوں

کافی جاننے والوں کو کال کی مگر سب نے پہلے پوچھ کیا کرنا ہے رینٹ پہ اپنا مکان کدھر ہے ہمارا گھر ہے

نا آ جاٶ رینٹ پہ لینے کی کیا ضرورت ہے۔

آخر تنگ آ کے دو تین پراپرٹی والوں سے بات کی لیکن وہ مکان بہت بڑے ہیوی رینٹ والے تھے۔۔۔

اسی سوچو و بیچار میں پتہ ہی نہیں چلا کہ ہمیں یہاں رکے دو گھنٹوں سے زیادہ کا وقت ہو گیا ہے۔۔۔

پارکنگ میں جو چوکیدار تھا اس نے آ کے پوچھا کہ سر کوٸی مسلہ ہے تو بتاٸیں آپ کافی دیر سے کھڑے ہیں

میں نے بتایا کہ میڈم کی طبیعت نہیں سہی اس لٸے رک گیا تھا پھر وہ سو گٸی سوچا کچھ دیر سو لیں تو جاتے

ہیں۔

گارڈ کے جانے کے بعد اچانک مجھے اپنے آفس کا گارڈ یاد آ گیا جس کا گھر ایک کچی آبادی میں تھا۔۔۔


اور مجھے اس نے ایک بار کہا تھا کہ سر اب گھر کا اوپر والا حصہ خالی ہو گیا ہے اس لٸے خرچہ پورا نہیں

ہوتا دعا کریں شاہ جی کوٸی کرایہ دار مل جاٸے۔۔۔

میں نے فورراً آفس کال کر کے کال آپریٹر کو گارڈ سے بات کروانے کا بولا


کچھ ہی دیر بعد مجھے اس کی آواز سناٸی


السلام علیکم صاحب جی


وعلیکم سلام خادم حسین کی حال اے تیرا


بس ساٸیں مولا کا کرم ہے


خادم حسین تیرا مقام رینٹ پہ چڑھ گیا ہے


نہیں ساٸیں بہت پریشان ہوں اگر وہ چڑھ جاٸے تو بچوں کی فیس کا مسلہ حل ہو جاٸے۔۔۔۔

او کے وہ مکان رینٹ پہ مجھے چاہیٸے میری کزن ہیں ان کا گھر والوں کے ساتھ کوٸی مسٸلہ چل رہا ہے وہ

رہیں گی


کرایہ میں دوں گا اور ساری رسپونسبلٹی میری ہے


اور یہ بات آفس میں پتہ نہ چلے کسی کو۔۔۔

ساٸیں باقی سب تو ٹھیک ہے لیکن میں آپ سے کرایہ لیتا اچھا نہیں لگتا۔۔۔۔


مجھے پتہ تھا کہ وہ مجھ سے کرایہ نہیں لے گا


میں نے یہ بتا کے غلطی کی تھی کہ کرایہ میں دوں گا

اس لٸے فوراً بات بدلی کہ کرایہ وہ لڑکی دے گی


میں صرف اُسے گھر لے کے دوں گا۔۔۔


جس پہ وہ راضی ہو گیا۔


ٹھیک ہے صاحب جی اگر ایسا ہے تو آپ چلے جاٸیں میں گھر کال کر دیتا ہوں


ٹھیک ہے خادم حسین الله حافظ

میں نے رب کا شکر ادا کیا کہ یہ مسلہ بھی حل ہو گیا


میں نے گاڑی میں آ کے دیکھا تو وہ ابھی تک سو رہی تھی میں نے گاڑی سٹارٹ کی اور پارکنگ سے باہر

روڈ پہ لے آیا

موباٸل میں وقت دیکھا تو دس بج رہے تھے


ہم اس وقت پیرا ڈاٸز بیکری کے سامنے سے گزر رہے تھے اچانک ایک خیال میرے زہن میں آیا۔۔۔۔۔

میں نے کچھ فاصلے پر واقع فیصل بنک کی طرف گاڑی ٹرن کر لی۔۔۔


پارکنگ میں گاڑی پارک کی اور اے ٹی ایم میں داخل ہو گیا اور کارڈ انٹر کر کے بیس ہزار کا فگر ڈال دیا۔

جب میں واپس گاڑی میں آیا تو وہ جاگ چکی تھی۔

میرے گاڑی میں بیٹھتے ہی اس نے السلام علیکم سر کہا


وعلیکم سلام


کسی طیبعت ہے اب آپ کی


میں نے بنا اس کی طرف دیکھے پوچھا


فیلنگ بیٹر سر


گڈ


اب آپ مجھے سر نہیں کہیں گی میرا نام لے کے بلا سکتی ہیں میرا نام مصطفی ہے۔۔


اور آپ مجھے اپنا نام بھی بتا دیں۔۔۔

میرا نام سدرہ افتخار ہے سر۔۔۔


سدرہ بات یہ ہے کہ میں کچھ زیادہ نہیں کر سکوں گا آپ کے لٸے لیکن اس دلدل سے نکلنے میں جتنی مدد آپ

کی کر سکا کروں گا لیکن شرط یہ ہے کہ آپ اس کام سے ہیمشہ کے لٸے توبہ کر لیں۔۔۔

ان شاء اللہ سر میں خلوص دل سے توبہ کر رہی ہوں


اور سر اس ساری کوشش کا اجر آپ کو اللہ پاک کی زات دے گی۔۔


ویری گڈ بچے اللہ پاک تمہیں استقامت عطا کرے آمین


آمین سر


اب مجھے واضع نظر آیا کہ اس کی آنکھیں بھیگی ہوٸی ہیں۔۔۔


میں نے آپ کے لٸے گھر کا ارینج کر دیا ہے جب تک میں نا کہوں آپ اس گھر سے باہر نہیں جاٸیں گی۔۔


سر مجھے اکیلے رہنا ہوگا مجھے بہت ڈر لگتا ہے


سدرہ نے اپنا خدشہ ظاہر کیا


اب میں نے سوچا کہ شکر ہے کوٸی اور گھر ملا ہی نہیں کیونکہ یہ بات اکیلے رہنے والی تو میں نے سوچی

ہی نہیں تھی


خادم حسین والا گھر سدرہ کے لیٸے پرفیکٹ تھا۔۔


نہیں تمہیں ایک فیملی ہے ان کے ساتھ رہنا ہے اوپر والا حصہ لیا ہے رینٹ پہ لیکن وہ پورا خیال رکھیں تمہارا۔

میں تمہیں اپنے ساتھ نہیں رکھ سکتا اس لٸے کہ میں اکیلا رہتا ہوں


ٹھیک ہے سر آپ نے جو بھی کیا ہے مجھے پتہ ہے اچھا ہی ہو گا۔


میں نے گاڑی سٹارٹ کی اور پارگنگ سے مین روڈ پہ لے آیا مجھے یاد ہے ایک بار اپنی کزن کے ساتھ ایک

مال میں گیا تھا لیڈیز ڈریس کی بہت اچھی اور وسیع رینج تھی وہاں


میں چاہتا تھا کے فلحال اسے تین چار ریڈی مڈ سوٹ لے کے دے دوں ۔۔۔


مال کی پارکنگ میں گاڑی روکی اور دوسری طرف سے آ کے دروازہ کھولا ۔


سدرہ باہر آ جاٶ


اس کے باہر آتے ہی میں نے دروازہ بند کر کے گاڑی لاک کی اور اسے ساتھ لے کے مال میں داخل ہو گیا۔۔۔


ایک بڑی شاپ میں بہت اچھے ڈریس نظر آ رہے تھے


ہم بھی ادھر ہی داخل ہو گٸے۔۔۔۔

سدرہ تین چار سوٹ لے لو اپنے لٸے سیزن کے حساب سے


سر رہنے دیں نا ایک پہنا ہے ایک اور لے لیتی ہوں


سدرہ نے شکرگزار لہجے میں کہا


نہیں چار سوٹ لے لو اور پلیز بحث نہیں اب جو ضرورت کی چیزیں ہیں لے لو


ٹھیک ہے سر


وہاں سے سوٹ لے کے ہم ایک اور شاپ پہ گٸے جہاں سے ٹاول سوکس اور سویٹر وغیرہ لٸے


اس کے بعد شیمپو برش ٹوتھ پیس ای ٹی سی سب لیا


جب خریداری سے فری ہوٸے تو میں نے پوچھا سدرہ کچھ رہ گیا ہے تو لے لو مجھے نہیں پتہ نا کسی لڑکی

کے لٸے میں نے کبھی کچھ خریدا ہے۔۔۔


سر ایک چیز اور لینی ہے

ہاں تو لے لو نا


لیکن سر میں نے کافی دیکھا ادھر اُدھر مجھے نظر نہیں آٸی۔۔

کیا چیز؟


میں نے ایک نظر اس کے چہرے کو دیکھا جو کہ مجھے ہی دیکھ رہی تھی۔


جاری ہے

Horror Stories In Urdu : The Scandal Girl Episode 3

Horror Stories In Urdu : The Scandal Girl
Horror Stories In Urdu : The Scandal Girl

سیکنڈل گرل۔۔۔قسط نمبر۔۔3

بنا راٸٹر کی اجازت کے کاپی کرنا منع ہے۔۔

جاٸے نماز کا سن کے میرے دل کو اطمنان ہوا ۔

میں نے شاپنگ بیگ کو گاڑی میں رکھتے ہوٸے کہا تم گاڑی میں بیٹھوں میں پتہ کرتا ہوں۔۔


اور سدرہ کا جواب سنے بنا واپس مال کے داخلی دروازے کی طرف مڑ گیا۔۔۔


دروازے پہ تیعنات گارڈ نے دروازہ کھولنا چاہا تو میں نے روک دیا۔۔۔


مجھے اندر نہیں جانا آپ یہ بتاٶ کہ یہاں کوٸی ایسی شاپ ہے جس سے جاٸے نماز مل جاٸے۔۔۔


جی سر ہے اسی مال کی بیسمنٹ میں دو تین شاپ ہیں

شکریہ راستہ کدھر ہے بیسمنٹ کا۔۔


اس طرف سر وہ سامنے۔۔


میں نے ایک اچھی جاٸے نماز اور تسبی خریدی اور پیک کروا کے واپس آ گیا۔۔۔


سدرہ نے بچوں کی طرح خوش ہوتے ہوٸے کہا مل گٸی

جی مل گٸی اور ساتھ تسبی بھی لایا ہوں

واٶ پنک کلر میں لینی تھی سدرہ نے شوخی سے کہا مگر دوسرے ہی لمحے اس کا چہرہ بجھ سا گیا اور چپ ہو

گٸی

جیسے کچھ ضبظ کرنے کی کوشش کر رہی ہو۔


میں نے غور سے سدرہ کے چہرے کی طرف دیکھا جس کی پلکیں نم ہو رہی تھی۔


شاید آنسو روکنے کی کوشش کر رہی تھی


میں نے اسے اس کنڈیشن سے نکانے کے لٸے اپنا رویہ دوستانہ کیا پنک کلر کی نہیں تھی لیکن ہاں ایک کام

کرتے ہیں


کیا سر سدرہ نے سر اٹھا کے دیکھا


بتاتا ہوں پہلے یہ بتاٶ تم نے میتھ پڑھی ہیں

جی سر پڑھی


واہ😍


پھر تو تمہیں یہ بھی پتہ ہو گا کہ میتھ میں کافی کچھ فرض کرتے ہیں تو تم بھی تسبی کا پنک کلر فرض کر

لینا۔۔۔


میرے شرارت سے کہنے پہلے وہ ہنس پڑی اور یہی میں چاہتا تھا کہ وہ اس ماحول کو یاد نہ کرے جس سے وہ

آٸی تھی۔۔

سر آپ بہت اچھے😊

اچھا تو میں ہوں لیکن۔۔۔۔۔


میں نے بات ادھر چھوڑ کے سدرہ کی طرف دیکھا


لیکن کیا سر اب کی بار اس کی نگاہ سوالیہ تھی


لیکن مجھے تب لگے گا کہ میں اچھا ہوں جب تم پرانی باتیں بھلا کے آگے لاٸف میں موو کرو گی۔۔۔

کچھ پل وہ میری آنکھوں میں دیکھتی رہی پھر ایک عزم سے بولی ان شاء اللہ سر اب آپ کو اچھا ثابت کرنے

کے لٸے میں دن رات ایک کر دوں گی۔۔۔


بے اختیار میرے ہونٹوں نے کہاں ان شاء اللہ

بس سر پاپا کی یاد آ گٸی تھی وہ جب بھی کچھ لاتے تھے میں لڑتی تھی کہ پنک کلر میں کیوں نہیں لاٸے اور

ان سے ناراض ہو جاتی اور پھر دوسرے دن پاپا وہی چیز چینج کروا کے پنک کلر میں لاتے تھے۔


اور سر آپ کو پتہ ہے کبھی کبھی تو مجھے لگتا تھا کہ پاپا جان بھول کے دوسرے کلر میں چیزیں لاتے تھے

تانکہ میں ان سے لڑاٸی کروں وہ بچوں کی طرح خوش ہو کے بتا رہی تھی۔۔۔


اور نا چاہتے ہوٸے بھی میری آنکھیں بھیگتی جا رہی تھی۔


اس سے پہلے کہ وہ نوٹ کرتی میں نے گاڑی سٹارٹ کی اور پارکنگ سے نکالنے لگا ۔

ٹاٸم دیکھا تو دو دو بج رہے تھے


صبح بہت ٹاٸم سے ناشتہ کیا تھا اب بھوک لگ رہی تھی

سدرہ تمہیں بھوک تو نہیں لگی۔۔

اتنی نہیں سر


مطلب کہ لگی ہے


اچھا ایسا کرتے ہیں کہ شیر مال لے لیتے اور ساتھ میں کباب کیا خیال۔۔۔


سر ایسے خیال اللہ کرے آپ کو روز آتے رہیں


مجھے ہنسی آ گٸی اب وہ بلکل ایک گھریلو اور شرارتی لڑکی کی طرح باتیں کر رہی تھی۔۔۔


ماشاءاللہ سر آپ ہسنتے بھی ہیں مجھے تو لگا تھا کے آپ کھڑوس۔۔۔۔۔


بولو بولو کافی لوگ ایسے ہی بولتے ہیں


میں نے ہنستے ہوٸےجواب دیا 😀😀

اب ہم کچی آبادی جو کے ندی اور فیکٹری ایریا کے درمیان تھی اس طرف جا رہے تھے راستے میں ایک ہوٹل

سے میں نے پانچ شیر مال اور آٹھ کباب پارسل کروا لٸے۔۔۔۔


میں نےگاڑی خادم حسین کے دروازے پہ روکی ہی تھی کہ دروازہ کھل گیا جیسے ہمارا ہی ویٹ ہو رہا تھا۔۔۔


سدرہ دوپٹہ سر پہ لے لو اور آٸندہ کبھی اترے نہ کسی کے سامنے بھی


سوری سر نہیں اترے گا۔۔۔


اور یہ جینز بھی نہیں پہنوں گی آٸندہ


نہیں پہنوں گی سر کبھی بھی

تبھی خادم حسین کا دس سالہ بیٹا جو شاید ابھی ابھی سکول سے آیا تھا اور یونفارم بھی نہیں اتاری تھی گاڑی

کے پاس آ گیا السلام علیکم چاچوں


وَعَلَيْكُم السَّلَام کیسے ہو حمزہ


چاچوں بلکل فٹ آپ سناٶ چاچو


میں بھی ٹھیک ہو پتر۔۔


شادی وادی تو نہیں کر لی چاچو


حمزہ نے خوش ہوتے ہوٸے پوچھا


بدتمیز کزن ہے میری میں نے ڈانٹا


کراچی کے بچوں سے اتنی امید تو رکھی جا سکتی ہے


سوری چاچو مجھے ایسا لگا تھا


بچے اور خادم کی بیوی مجھے اچھے سے جانتےتھے اکثر عید وغیرہ پہ خادم اور بچے مجھے ملنے آتے

رہتے تھے اور خادم کی قربان عید بکرا زبح کرتا تھا


خادم زات کا بلوچ تھا جو انتہاٸی شریف اور اچھا انسان تھا

تبھی خادم کی بیوی کی آواز آٸی حمزہ چاچو لوگوں کو اندر بھیجو اور سامان نکال کے لے لا۔۔۔


جی امی لاتا ہوں۔۔۔


چلیں چاچو آپ اور پھپھوں اندر چلیں میں سامان لے آتا ہوں۔۔۔


میں نے اتر کے سدرہ کی طرف کا دروازہ کھولا اور اسے باہر آنے کا اشارہ کیا۔۔۔۔


بھابھی نے بہت اچھے سے استقبال کیا۔


کچھ دیر بعد ہمارے سامنے کھانا لگا دیا گیا جو اسپیشل ہمارے لٸے پہلے سے بن چکا تھا۔۔۔

زندگی میں پہلی بار کسی نامحرم لڑکی کے ساتھ کھانا کھاتے ہوٸے بہت عجیب لگ رہا تھ۔۔۔


پھر یہ سوچ کے دل کو تسلی دی کہ نیت اچھے کام کی ہے اللہ معاف فرماٸے گا۔۔۔

کھانے سے فارغ ہو کے میں نے حمزہ کو کہا مجھے اوپر والا پورشن دکھاٶ۔۔۔


جگہ رہاٸش کے قابل تھی کچن واش روم اور ایک کمرہ تھا


اچانک خیال آیا کہ سردی ہے لیکن میں نے تو کسی بستر یا کمبل کا سوچا ہی نہیں تھا۔


میں نے نیچے آ کے خادم حسین کی بیوی سے کہا کہ آپ دو دن کے لٸے کوٸی سنگل بیڈ یا چارپاٸی دے دیں


پھر میں کوٸی ارینج کر دوں۔۔

بھاٸی کیسی باتیں کر رہے ہیں سب کچھ آپ کا ہی تو ہے آپ کو کچھ بھی لانے کی ضرورت نہیں اور اگر آپ

لاٸے تو میں نے ناراض ہو جانا ہے۔۔

بھابھی نے اتنے مان سے کہا کہ مجھے بھی یہی مناسب لگا کہ کچھ دن دیکھ لیتا ہوں کے سدرہ کیا کرتی ہے

سیریس ہے بھی یا نہیں ۔۔۔

اچھا ٹھیک بھابھی جیسے آپ خوش۔۔


اگلا ایک گھنٹہ ہمیں نیچے سے اوپر کچھ سامان شفٹ کرنے میں لگ گیا بیڈ کدہ کمبل تکیے دو چیٸر ایک ٹیبل

کچھ برتن استمال کے۔۔۔


واٹر کولر ایک ہی تھا میں نے حمزہ کو پیسے دیٸے وہ لے کے آیا۔۔۔

کمرے کی سیٹنگ بھابھی اور حمزہ نے میرے ساتھ ہو کے کرواٸی۔۔


بھابھی بہت تھک گیا ہوں اچھی سی چاٸے پلا دیں


جی بھاٸی ابھی لاٸی یہ کہ کر بھابھی نیچے چلی گٸی اور میں وہی اوپر ہی بیڈ پہ لیٹ گیا۔۔

میں واقعی تھک گیا تھا ایک تو رات دو بجے سے جاگ رہا تھا آرام کا بھی وقت نہیں ملا تھا۔۔۔


اوپر سے سدرہ کی رہاٸش والی ٹینشن نے اچھا خاصا تھکا دیا تھا۔


اب اللہ اللہ کر کے یہ مسلا حل ہوا تو مجھے بھی کچھ سکون ملا اب آنکھیں نیند سے بند ہونے لگی۔۔۔


تبھی فون کی بیل بجی سیل نکال کے دیکھا تو ماموں کی کال تھی۔۔۔

ماموں کی کال نے نیند اڑا دی


میں نے کال پک کی اور السلام علیکم کہا

والسلام علیکم سلام کدھر ہو شاہ صاحب


ماموں میں ایک دوست کے ساتھ ایک کلاٸنٹ سے ملنا تھا ادھر آیا ہوں۔۔


ماموں سے جھوٹ بولنا اچھا تو نہیں لگ رہا تھا لیکن مجبوری تھی۔۔۔

میں تمارے آفس کے پاس سے گزر رہا تھا سوچا ملتا جاٶں


جی ماموں ضرور ملتا لیکن اس وقت میں آفس میں نہیں ہوں۔۔۔


اچھا ٹھیک ہے مچھی لی ہے آج گھر آنا گپ شپ کریں گے۔۔


جی ٹھیک ہے ماموں میں سیدھا آپ کی طرف ہی آ جاٶں گا

او کے الله حافظ

الله حافظ


میں نے موباٸل ساٸڈ پہ رکھا اور پھر بیڈ پہ لیٹ گیا


تبھی سیڑھیاں چڑھنے کی آواز آٸی تو اٹھ کے بیٹھ گیا میرا خیال تھا بھابھی چاٸے لے کے آٸی ہوں گی۔۔۔

مگر میرا خیال غلط نکلا چاٸے سدرہ لے کے آٸی تھی


ایک پل کو تو میں آنکھ چھپکنا ہی بھول گیا کہ یہی وہی لڑکی ہے جو جسم فروسی جیسے گندھے دھندے سے

وابستہ تھی۔۔


سدرہ کی ہاٸٹ بھی اچھی تھی اور اس وقت اس نے وہی ڈریس پہنا تھا جو میں نے کہا تھا یہ بھی لے لو۔۔

وہ بے بی پنک کلر کا شفون کا فیراک تھا ساتھ چوڑی دار پاجامہ سلیقے سے سر پہ ڈوپٹہ لٸے وہ بہت ہی پیاری

لگ رہی تھی۔۔۔


مجھے ایسے گھورتے دیکھ کے شاید وہ بھی پزل ہو گٸی تھی سر کیا ہوا


اس کی آواز مجھے واپس ہوش میں لے آٸی مجھے کافی شرمندگی فیل ہوٸی اپنی اس حرکت پہ لیکن اب

پچھتاٸے سےکیا ہوت جب چڑیا چگ گٸیں کھیت۔۔

کچھ نہیں تم نے چینج کب کیا میں نے چاٸے کا کپ لیتے لیتے ہوٸے پوچھا۔۔۔


سر جب آپ لوگ سامان شفٹ کر رہے تھے اس وقت

گڈ تم نے اچھا کیا چیج کر لیا۔۔


اچھا میں اب گھر جا چلا جاٶں گا۔۔


کسی بھی چیز کی ضرورت ہو تو بھابھی کے نمبر سے مجھےکال کر لینا میں نے جیب سے وزٹنگ کارڈ سدرہ

کو دیتے ہوٸے کہا۔۔۔

Part 2 Horror Stories The Scandal Girl Part 2

Part 3 Horror Stories In Urdu : The Scandal Girl Part 3

5 Replies to “Horror Stories In Urdu : The Scandal Girl

Leave a Reply