English Story : Ant’s Benefits And Disadvantages
Moral Stories Real Life Stories Short Stories Urdu Stories

Stories In Urdu : New Urdu Stories 2020

Today I Make Stories In Urdu : New Urdu Stories. If You Read This Urdu Stories 1 Time. I Hope You Read Again And Again.

Stories In Urdu  New Urdu Stories 2020

Ant’s Benefits And Disadvantages

جیت کو شاید میرے پاؤں اچھے نہیں لگتے اسی لیے نہیں چومتی۔😝 

لیکن میں بھی ایک باراردو گدگدیاں کا بڑا مقابلہ ضرور جیتوں گی چاہے دس سال ہی کیوں نہ لگ جائیں😣۔


خیر۔ ۔ چھوڑیں میں آپ کو چھٹیوں کے فوائد اور نقصانات بتاتی ہوں۔


فوائد:


1: چھٹیوں میں بندہ جییییی بھر کے ریسٹ کرتا ہے۔پورا دن لیٹے رہو کوئی کچھ نہیں کہتا۔ میرے وہ کمرے میں

جیسے ہی قدم رکھتے ہیں مجھے پتا چل جاتا ہے کہ اب کچھ کہیں گے۔ لیکن میں ان کے بولنے سے پہلے ہی

بول دیتی ہوں ” میرے آرام میں خلل نہ ڈالنا مجھے ڈسٹرب نہ کرنا” پھر وہ کریم شریم لگا کے چپ چاپ باہر

چلے جاتے ہیں اورنئے لان میں منجھی ڈھا کے اس پر بیٹھ کے موبائل استمعال کرتے ہیں 😅۔ چھٹیوں کا ایک

فائدہ یہ بھی ہے کہ انھوں نے لان بنایا۔


2:دوسرا فائدہ یہ ہے کہ بندہ بار بار ریسٹ کرتا ہے۔ آپ کے اگر بچے نہیں ہیں تو پھر تو اور بھی آرام سے

ریسٹ کی جا سکتی.


3:کھانا بنانے سے پہلے بھی ریسٹ کی جا سکتی ہے اور کھانا بنانے کے بعد بھی۔😁


4: ہر کام کے بعد ریسٹ !! کھانا کھانے کے بعد،کپڑے دھونے کے بعد بھی، برتن دھونے کے بعد بھی۔ آٹا تو

خیر میں ویسے بھی نہیں گوندھتی ۔😂


5:چھٹیوں میں پڑھنا بھی نہیں پڑتا۔اب تو خیر نیا نظام آ گیا ہے۔ کچھ بچوں کو پڑھنا بھی پڑتا ہے۔ ان کے لیے

بھی تھوڑا سا ہنس لیتے ہیں۔ 😂😂ہنسنا برا بھی نہیں کیوں کہ ہم ایسے معاشرے میں رهتے ہیں جہاں

مصیبتوں پے ہنسا جاتا ہے۔ کرونا کی مثال سامنے ہیں۔ ہر وہ پاکستانی جو سوشل میڈیا سے اٹیچ ہے کرونا پے

ضرور ہنسا ہے۔ 😶


6: بندہ اگر استاد ہے تو چھٹیوں میں وہ بچوں کی بد دعاؤں سے بھی بچ جاتا ہے۔ میرے سامنے ہی ایک ٹیچر

کیچڑ میں گری تھی۔دسویں جماعت کی طالبات نے مجھے بتایا کہ انھوں نے دعا کی تھی کہ وہ گریں ،کپڑے

گندے ہوں تو گھر چلی جائیں۔بچیاں مجھ سے کہنے لگیں آپ بھی دعا کریں۔ —

Stories In Urdu  New Urdu Stories 2020


7 :بندہ چھٹیوں میں مختلف تحقیقات بھی کر سکتا ہے۔ مثلا میں نے ان چھٹیوں میں دیکھا کہ سب سے پہلے بادام

کا درخت پھولتا ہے پھر آلو بخارے کا پھر خوبانی کا پھر آڑو کا پھر ناشپتی کا۔ میں نے یہ بھی غور کیا کہ اگر

مرغیوں کو ہم مرے ہوئے کیڑے ڈھونڈ کے دیں تو وہ نہیں کھاتیں۔لیکن اگر مرغا گھاس بھی کھانے کے لیے

بلائے تو ساری بھاگی بھاگی آتی ہیں۔اور میں نے غور کیا کہ ہاشم ندیم کا ناول پری زاد پڑھتے ہوئے بیس بار

رونا آتا ہے۔ پورا ناول ایک دن میں پڑھا جا سکتا ہے۔ اگر آپ کہتے ہیں تو کسی دن بیٹھ کے آپ کو اس کے

صفحات گن کے بتاؤں گی۔ چھٹیوں میں مجھے پتا چلا کہ ہمارے پاس ٹوٹل پانچ مرغیاں ہیں۔ سب انڈے دیتی

ہیں۔ مجھے یہ بھی پتا چلا کہ گاۓ زیادہ کھا کر بےچین ھو جاتی ہے۔ 🤐🤐🤐


8:چھٹیوں میں مجھے بولا گیا ہے کہ میکے نہ جانا کرونا ھو جاۓ گا۔ نہ جانے دیں میں ویسے ہی خوش ہوں۔

امی کے گھر کام زیادہ کرنا پڑتا ہے۔ 🤐🤐🤐


9:بندہ شیف بن جاتا ہے۔ 😁


10:روز استری نہیں کرنی پڑتی۔


نقصانات:


1:بچوں کی پڑھائ کا حرج ہوتا ہے۔


2-آج کل چونکہ کرونا کی وجہ سے لاک ڈاؤن ہوا ہے تو بہت سے لوگ بے روزگار ھو گئے ہیں۔میری اپنی

تنخواہ ڈب گئی جے۔ 😪

:پہلے لوگوں کو گھر کا کام نہیں کرنا پڑتا تھا اب وہ بھی کرنا پڑ رہا ہے۔ لوگوں کی ساری انرجی ضائع ھو

رہی ہے۔ .


4:لوگ کھا کھا کر موٹے ہوتے جا رہے ہیں۔


5: گھر میں بچوں کی چک چک سننا پڑ رہی ہے۔ 😣..


6:ان چھٹیوں میں بندہ گھوم پھر نہیں سکتا۔


7:ریسٹ کر کر کے بور ھوجاتا ہے۔


ریسٹ سے یاد آیا میں نے بہت لمبی تحریر لکھ لی ہے۔ اب مجھے ریسٹ کرنی چاہیے۔ ویسے بھی کل تہیہ کیا

تھا کہ اب یہ پورا مہینہ میں کچھ سوچوں گی بھی نہیں۔ دماغ کو بھی تو آرام چاہیے ہوتا ہے۔ مجھے تو پورا سال

چھٹیاں ہی نہیں ہوئیں۔ سال نہیں دو سال۔ تو اب آرام کر لینا چاہیے ۔🙄

One Reply to “Stories In Urdu : New Urdu Stories 2020

Leave a Reply