Urdu Stories Hourse Thief
Chidren Stories Moral Stories Urdu Stories

Urdu Stories Horse Thief

بھیم اور گھوڑے کا چور

Urdu Stories Hourse Thief

ان دنوں ڈھولک پور میں میلہ لگا ہوا تھا

لوگ میلہ دیکھنے کے لیے دور دور سے ڈھولک پور آئے ہوئے تھے

اس مہینے کے آخری دن گھوڑوں کی دوڑ کا مقابلہ بھی تھا

جس میں نامی گرامی گھڑسوار شریک ہو رہے تھے

ڈھولک پور کا سب سے بڑا زمیندار کرشن بھی اس گڑبڑ دوڑ میں حصہ لے رہا تھا

Moral Stories For Kids

کرشن کے اصطبل میں کئی قسم کے گھوڑے موجود تھے ان گھوڑوں میں ایک گھوڑا نیل کنول بھی تھا.

نیل کنول کے نیلے رنگ کا گھوڑا تھا جس کی رفتار بجلی کی طرح تھی.

کرشن نے گھوڑوں کی دوڑ میں اپنے گھوڑے نیل کنول کو دوڑانا تھا

کرشن جانتا تھا کہ اس دوڑ میں نیل کول نہیں جیتے گا

اور یہ خبر پورے ڈھولک پور میں مشہور ہو چکی تھی اب کئی لوگوں نے نیل کنول کو چرانے کی کوشش کی مگر کسی کو کامیابی نہ ملی گھوڑوں کی دوڑ میں صرف دو دن باقی رہ گئے تھے

Urdu Stories Hourse Thief

Watch This Story In English

ایک دن کرشن صبح اٹھ کر اپنے اصطبل میں گیا

تو اس نے دیکھا کہ گھوڑوں کی رکھوالی کرنے والا ملازم دینو دونوں ہاتھوں سے اپنا سر پکڑے بیٹھا ہے کرشن نے دینوں کو یوں سر پکڑے دیکھا

تو اس کا ماتھا ٹھنكا وه فوراُ وینوں کے پاس آیا اور بولا:

وینو کیا ہوا تم ایسے کیوں بیٹھے ہودینو نے چونک کر سر اٹھا کر اپنے مالک کرشن کی طرف دیکھا

اور جلدی سے اٹھ کر کھڑا ہوا اور بولا مالک نیل كنول اپنی جگہ پر نہیں ہےكیا

::: فیشن زور سے چلایا

Stories With Moral

دینو نے روتے ہوئے کہامالک میں سچ کہہ رہا ہوں نیل كنول اپنی كوٹھڑی میں نہیں ہے.

کرشن تو یہ سن کر حیران سے رہ گیا

اسے تو پہلے ہی یہ خدشات تھا کے کوئی نیند گول کو چرانے کی ضرور کوشش کرے گا

اور وہی ہوا جس کا اسے ڈر تھا.

Urdu Stories Hourse Thief

وہ دینو سے بولا

 اگر وہ اپنی کوٹلی میں نہیں ہے تو اصطبل میں کسی دوسری جگہ دیکھنا تھا

شاید وہ اصطبل کے کسی دوسرے حصے میں چلا گیا ہو.

دینو نے روتے ہوئے جواب دیامالک میں نے پورا اصطبل چھان مارا ہے نیل كنول اصطبل میں کہیں نہیں ہے

کرشن یہ سن کر پریشان ہو گیا کہ اب کیا کرے

اس نے دینو سے پوچھاکیا کوئی اصطبل میں آیا تھاتینوں نے انکار میں سر ہلایا

Horror Stories

تو کرشن سوچنے لگا پھر نیل کنول کہا گیا. اس نے خود سارا اصطبل چھان مارا مگر نیل كنول کا کہیں پتا نہ چلا

کرشن سوچنے لگا کہ اب کیا کرے کل گھوڑوں کی دوڑ ہے اور نیل كنول غائب ہے

وه نیل کنول کے بغیر گھڑ دوڑ میں حصہ کیسے لگا

اس نے تو اس دوڑ کے لئے نیل کنول كو هی تیار کیا تھا.

کل جب وہ گھوڑوں کی دوڑ میں حصہ نہیں لے گا تو سب اس کا مذاق اڑائیں گے

کسی کو بھی اس بات کا یقین نہیں آئے گا کہ نیل كنول کو کسی نے چُرا لیا ہے

سب یہی سوچیں گے کہ میں جھوٹ بول رہا ہوں

اور دوڑ میں ہار جانے کے خوف سے ایسا کر رہا ہوں.

وہ سر پکڑ کر بیٹھ گیا اب کیا کرے سوچتے سوچتے اسے بھیم کا خیال آگیا

وہ زیر لب بڑبڑایا ہاں مجھے ایسا ہی کرنا چاہیے مجھے بھیم سے مدد لینی چاہئے

بھیم ضرور نیل کنول کو تلاش کر لے گا.

دینو نے یہ سنا تو اس کے چہرے پر پریشانی چھا گئی

وہ بولامالک بھیم تو ایک چھوٹا سا بچہ ہے بھلا وہ نیل کنول کو کہا تلاش کر پائے گا

Urdu Stories Hourse Thief

کرشن نے اس کی بات سنی ان سنی کردی اور اصطبل سے چلا گیا

وہ اصطبل سے سیدھا بھیم کی تلاش میں نکل پڑا .

بھیم اسے کہیں نہیں ملا تھا

کرشن تو پہلے ہی بڑا پریشان تھا وہ بھیم کو تلاش کرتا ہوا پرانے آم کے درخت کی طرف آ نكلا

اس نے دیکھا کہ بھیم اپنے دوستوں کے ساتھ وہاں موجود ہیں

وہ فورن بھیم کے پاس آیا اور بولا

بھیم مجھے تمہاری مدد کی ضرورت ہے کیا تم میری مدد کرو گے

بھیم نے کرشن کی طرف دیکھتے ہوئے کہاکرشن چاچا کیا بات ہے آپ بہت پریشان لگ رہے ہیں

خیریت تو ہے ناکرشن نے جواب دیا بھین بیٹا خیریت هی تو نہیں ہے.

بھیم نے چونک کر پوچھاکرشن چاچا کیا ہوا مجھے جلدی بتائیںکرشن نے کہا

بیٹا میرے اصطبل سے میرا سب سے طاقتور اور اچھا گھوڑا نیل کمال غائب ہے

تم تو جانتے ہی ہو کہ کل نیل کنول نے دوڑ میں حصہ لینا تھا

اب میں کیا کروں.بھیم یہ سن کر پریشان ہو گیا اور وہ بولا

تم چاچا چلیں میں چل کر دیتا ہوں آپ پریشان نہ ہوں

میں جلد ہی نیل کنول کو تلاش کر لونگا

کل کے مقابلے کی تیاری کریں کل نیل کنول دوڑ میں حصہ ضرور لے گا

کرشن یہ سن کر خوش ہو گیا

وہ بھیم اور اس کے دوستوں کو اپنے اصطبل میں لے آیا رات کو بارش ہوئی تھی

جس کی وجہ سے اس کی زمین گیلی تھی

بھیم نے کے داخلی دروازے کی زمین کو غور سے دیکھا

گیلی زمین پر گھوڑوں کے قدموں کے نشان نہیں تھے تھے

اس کا مطلب یہ تھا کہ گھوڑے کو اصطبل سے باہر نہیں لے جایا گیا گھوڑا اصطبل میں کہیں موجود ہے

مگر کرشن چاچا کہتا ہے کہ اس نے سارا اصطبل چھان مارا ہے

نیل کنول اس میں نہیں ہے تو پھر نیل کنول گیا کہا.

Urdu Stories Hourse Thief

وہ اصطبل سے باہر نہیں نکلا اور اصطبل میں موجود نہیں ہے

اسے زمین نگل گئی یا آسمان کھا گیا

اور اس کے ساتھیوں نے پورا اصطبل دیکھ کر ڈالا

مگر نیل كنول کہیں دکھائی نہ دیا.بھیم سوچنے لگا اب کیا کرے

وہ نیل کنول کو کہا تھا نا شکرے اس نے چاچا دینو سے بھی نیند قوال کے متعلق پوچھا

دینوں چاچا نے بھی لاعلمی کا اظہار کیا. اب تو بھیم چکرا کر رہ گیا کے کیا کرے

وہ نیل کنول کو کہا تھا لاش کرے کل گھوڑوں کی دوڑ کا مقابلہ تھا

اور بھیم کو مقابلہ شروع ہونے سے پہلے پہلے نیل کنول کو تلاش کرنا تھا

 اس نے ایک بار پھر پورے اصطبل کا چکر لگایا

اور اس بار بھی اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا.

بھیم سوچنے لگا میں نے چچا کرشن سے وعدہ کرلیا ہے

مقابلہ شروع ہونے سے پہلے پہلے نیل کنول کو تلاش کر لوں گا مگر اب تو ایسا لگ رہا ہے

جیسے وہ نیل كنول کو کبھی تلاش نہ کر پائے گا.

اسی دوران ایک دوست کی نظر اصطبل کے ایک کونے میں پڑی

وہاں کالے رنگ کا ایک ڈبا پڑا ہوا تھا

راجو جو چلتا ہوا اس ڈبے کے قریب پہنچا ا

ور سر کھجاتے ہوئے ڈبے کو خیریت سے دیکھنے لگا

بھی بھیم نے چچا کرشن سے وعدہ کیا

کہ وہ شام ہونے سے پہلے پہلے گھوڑے کو تلاش کر لے گا

Urdu Stories Hourse Thief

اس نے دوست کو آواز دی دوست سوچتا ہوں ابھی ن کے پاس گیا.

دوست خاموش تھا جیسے کچھ سوچ رہا ہو.

بھیم اپنے ساتھیوں کو لے کر اصطبل سے باہر آگیا

اور سوچنے لگا کے نیل کنول کو کیسے اور کہاں تلاش کرے

نیل کو اصطبل سے نکلا ہی نہ تھا پھر کہاں چلا گیا

اگر نیل كنول اصطبل سے باہر لے جایا جاتا تو گیلی زمین پر اس کے پیروں کے نشان ضرور ملتے

  مگر وہاں تو پیروں کا ایک نشان بھی نہیں تھا.

اس کا مطلب تھا کہ نیل کنول اصطبل سے باہر نہیں گیا

تو پھر کہا گیا.بھیم اپنی سوچوں میں غرق تھا

وہ اس بارے میں جتنا سوچتا اس کا دماغ اتنا ہی الجھتا جا رہا تھا

دوسری طرف دوست بھی پریشان تھا

رہ رہ کر اس کا دھیان اس میں موجود کالے رنگ کے ڈبے کی طرف جا رہا تھا

وہ سوچنے لگا

آخر ایسی کیا بات ہے کہ اس کادھیان بار بار اس ڈبے کی طرف جارہا ہے

وہ اس ڈبے کی وجہ سے اتنا پریشان کیوں ہیں کیا اس ڈبے کا نیل کنول کی گمشدگی سے کوئی تعلق ہے

Urdu Stories Hourse Thief

مگر اس سوال کا جواب اسے نہیں مل پارہا تھا

جوں جوں وقت گزر رہا تھا بھی پریشان ہوگیا

کہ نیل کول کہاں تلاش کرے اس وقت وہ چاروں آم کے پرانے درخت کے نیچے موجود تھے

اور چاروں سوچ میں غرق تھے

مگر ان کو سمجھ کچھ نہیں آرہا تھا.

نیل کنول کی گمشدگی نے تو انہیں پریشان کرکے رکھ دیا تھا وہ تو ایسے

غائب تھا جیسے گدھے کے سر سے سینگ

اب انہیں گدھے کو نہیں بلکہ سینگ کو تلاش کرنا تھا.

پھر نی كنول تک ہر حال میں پہنچنا تھا سوچتےسوچتے بھیم کے ذہن میں ایک بات آئی

کہ ہو سکتا ہے کہ اس بل میں پچھلی طرف بھی باہر جانے کے لئے کوئی دروازہ موجود ہو

اور نیل کنول کو اسی دروازے سے اس سے باہر لے جائے گیا ہوں

اسی لئے انہیں اس کے اندر آنے والے دروازے پر پیروں کے نشان نہیں ملے.

بھیم نے اپنا یہ خیال اپنے تینوں ساتھیوں پر ظاہر کیا

تو تینوں یہ سن کر اچھل پڑے اور بولے بھیم تم ٹھیك سوچ رہے ہو ایسا ہی ہوا ہوگا.

نیل كنول کو اصطبل کے پچھلے دروازے سے باہر لے جایا گیا ہوگا.بھیم سوچتے ہوئے بولا

مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اصطبل کی پچھلی طرف بھی گھوڑوں كے پیروں کے نشانات نہیں تھے

اگر تھے تو ہم نے غور نہیں کیا

كه ہمارا سارا دھیان تو اصطبل کے دروازے کی طرف تھا ہو سکتا ہے

کہ پچھلی طرف پیروں کے نشان ہو

Urdu Stories Hourse Thief

دوسرا دوست یہ سن کر بولا

مگر بھی اگر پچھلی طرف پیروں کے نشان ہوتے

تو ہم میں سے کسی ایک کی نظر تو اس پر پڑھ کی

اگر ہم میں سے کسی کو بھی وہاں نشان نظر نہیں آئے

تو اس کا مطلب ہے کہ وہاں پیروں کے نشان نہیں تھے

یہ سن کر بھیم سر ہلاتے ہوئے بولا

دوست آج تم تو بڑی عقلمندی کی باتیں کر رہے ہو

اور دوست کھلکھلا کر ہنس پڑا

اب وہ ایک بار پھر چاچا کرشن کے پاس آئے بھیم سے پوچھا

چاچا کیا اصطبل کی پچھلی طرف بھی کوئی دروازہ ہے

  چاچا کرشن نے انکار میں سر ہلایا

تو بھیم کے ہوش اڑ گئے.

دوسری طرف دوست ابھی تک ہركالے رنگ کے ڈبے کی وجہ سے پریشان تھا

وہ چاروں چاچا کرشن کے ساتھ ایک بار پھر اصطبل میں آئیں

اور دوست کی نظر کالے رنگ کے اس ڈبے پر پڑھی تودوست چھونك اٹھا

اور اس نے بھیم کے کان میں کچھ کہا

تو بھیم نے كالے رنگ کے اس ڈبے کی طرف دیکھا

پھر خود بخود اس کے قدم اس ڈبے کی طرف اٹھتے چلے گئے

سب ڈبے کے پاس آ کر رک گیا

اور غور سے ڈبے کی طرف بڑھنے لگے

یہ دیکھ کر دینوچاچا گھبرا گیا دینو چاچا كی گھبراہٹ بھیم کی نظروں سے چھپی نہ رہ سکی وہ سمجھ گیا کہ کوئی چکر ضرور ہے وہ سوچنے لگا کہ رنگ کا یہ ڈبہ یہاں کیوں پڑا ہے

اس نے چچا کرشن سے اس ڈبے کے متعلق پوچھا

تو وہ بھی حیران ہوا. اس نے دینو سے پوچھا تو دینوں کوئی جواب نہ دے پایا.

اب بھیم کو یاد آیا کہ اس نے اصطبل میں ایک کالا گھوڑا بھی دیکھا ہے

جس کا رنگ چمک رہا تھا اس نے چچا کرشن سے اس گھوڑے کے متعلق پوچھا تو چچا کرشن نے جواب دیا.

میرے پاس کوئی کالا گھوڑا نہیں ہےیہ سن کر بھیم نے دوست سے کہادوست ذرا کوٹھڑی سے کالا گھوڑا تو کھول کر لے آنا

Urdu Stories Hourse Thief

یہ سن کر دینو چچا کا رنگ خوف سے زرد پڑگیا

راجو گیا اور کالا گھوڑا کھول کر لے آیا

اب بھیم نے پانی کے نل كے ساتھ پائپ لگاکر نل كھول دیا

پائپ سے پانی کی دھار پھوٹ نکلیں

بھیم نے پائپ کارخ کالے گھوڑے کی طرف کردیا دوسرے ہی لمحے ہیں سب اپنی جگہ پر اچھل کر رہ گئے

پانی پڑتے ہی گھوڑے کا کالا رنگ اترنا شروع ہوگیا

وہ نیچے سے نیلا رنگ نظر آنے لگا چچا کرشن یہ دیکھ کر چلایایہی ہے نیل کنول مگر . مگر
چاچا کرشن نے غصے سے دینوکی طرف دیکھ

ا تو تینوں کرشن کے قدموں میں گر گیا اور بولامالک مجھے

معاف کردو. مجھے ایسا کرنے پر مجبور کیا گیا ہے

اگر میں ایسا نہ کرتا تو كل میرے اکلوتے بیٹے کو مار ڈالتا.

اس نے میرے بیٹے کو اغوا کر لیا ہے میرے بیٹے کو بچالیں مالک میرے بیٹے کو بچا لیں

.یہ سن کر سب دھك رہ گئے

بھیم نے اسے پوچھاچاچا دینو بتاؤ وہ کون ہے

اور اس وقت کہاں پر ہوگاچاچا دینو نے بھیم کو ان کا نام اور ٹکھانا بتادیا

بھیم اسی وقت وہاں سے روانہ ہو گیا وہ ساتھ والے گاؤں چندی پور کا سب

سے بڑا زمیندار رگھوں تھا

بھیم کو دیکھ کر بولا تم یہاں کیا کر رہے ہو.

بھیم نے کہا چچا دینوں کا بیٹا کہاں ہے.

رگھوں یہ سن کر اچھلا اور بولااوہ تو تمہیں دینو نے سب کچھ بتا دیا ہے

خیر کوئی بات نہیں تم میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اب میں

تمہیں اور دینوں کے بیٹے دونوں کو جان سے مار دوں گا

بھیم نے یہ سنا تو اپنی جگہ سے اچھلا

اس نے ایک زوردار گھونسا رگھوں کے منہ پر دے مارا

اور رگھوں نیچے گر پڑا. یہ دیکھ کر بھی بھیم نے رگھوں پر چھلانگ لگا دی

اور بہت زیادہ مارا جس سے رگھو زور زور سے چلانے لگا.

بھیم نے رگھوں کی اچھی خاصی مرمت کر ڈالی تھی

پھر اس نے رگھوں کے ہاتھ پاؤں باندھے

اور دینو چچا کے بیٹے کو تلاش کرنے لگا

جلدی سے ایک کمرے سے دینوں چچا کا بیٹا رسیوں سے بندھا ہوا مل گیا

بھیم اسی رسیوں سے آزاد کر کے باہر لے آیا.باہر چچاکرشن اور دینو دونوں موجود تھے

دینو کا بیٹا توڑ کر اپنے باپ کے ساتھ لپٹ گیا

دینو کی آنکھوں میں آنسو تھے

اس نے پہلے تو اپنے بیٹے کو خوب جی بھر کر پیار کیا

پھر كرشن سے بولا.

مالک مجھے معاف کردے میں اپنے بیٹے کی وجہ سے مجبور تھا

ورنہ میں آج بھی آپ کا وفادار اتنا ہی ہوں جتنا پہلے تھا

کرشن نے یہ سنا تو آگے بڑھ کر دینو کو گلے سے لگایا

اور دین و زار زار رونے لگا

بھیم کی بہادری اور سمجھداری سے نه صرف نیل كنول مل گیا تھا

بلكه چاچا دینو اور اس كا بیٹا بھی مل گیا.

12 Replies to “Urdu Stories Horse Thief

Leave a Reply